Archive for April, 2010

ستاروں بھرا آسمان

April 21, 2010

میرے بچپن کا آسمان ستاروں سے کیسا بھرا ہوا ہوتا تھا۔ 

 یہ بات ایسے یاد آئ کہ کسی نے آسمان دیکھ کر کہا

 ” کتنے ستارے  نظر آ رہے ہیں”۔ میں نے نظر اٹھا کر

دیکھا تو آسمان ستاروں سےمزین تھا

 

چھتیس سال پہلے کی بات یاد آءی۔71 کی جنگ

 زوروں پہ تھی۔ شہر میں بلیک آؤٹ ہوا تھا۔ میں

 باہر چارپاءی پر اپنے نانا کے ساتھ لیٹا ہوا تھا۔

 آسمان ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی الھژ دوشیزہ

 کی ستاروں بھری اوڑھنی۔ (خدا جانے یہ ادیبوں

 کی ٹھرک کب جاۓ گی۔ ہر استعارے میں دوشیزہ

 کود جاتی ہے)۔ وقت نےاتنے موٹے شیشوں کی

عینک لگا دی جسے اتار کر پتہ ہی نہیں چلتا کہ

 سامنے دوشیزہ ہے کہ انسپکٹر جعفر حسین۔

ہاں وہ تھا کراچی کا بلیک آؤٹ والا آسمان اور

 یہ ہے ٹورونٹو کی سفید جہنم والی سردی کا

 ٹھٹھرتا ہوا آسمان۔ مگر روشنیوں سے مرصع۔

 جب برف گرتی ہے تو باہر اتنی روشنی ہو جاتی

 ہے کہ بقول ہماری دادی رمضان کی راتوں میں نور

 برس رہا ہے۔

کیا کچھ نہ بدلہ ان سالوں میں، زمین چھوٹی، ماں باپ

 کو چھوڑا صرف ایک دیوانگی اور ایک خواب کہ

 چلو چل کہ دکھاتے ہیں کہ ہم کیا ہیں۔ اس دیوانگی

 نے کیا کچھ نہ دیا- مگر وہ آسمان- وہ جو کبھی ستاروں

 سےمزین تھے اور وہ  آسمان جو منوں مٹی اوڑھے سو

 رھے تھے وہ چھوٹ گۓ۔

آج سوچتا ہوں کیسے کیسے آسمان کسطرح کھو جاتے

 ہیں۔یادآتا ہے کہ اسکول میںایک دوست ہوتا تھا راجہ

 ۔ نا م کا بھی اور دل کابھی ۔ کئ سال بعد پتہ چلا کہ وہ

 پنجابی تھا۔ یہ تقسیم بھع بہت بعد میں پتہ چلی (زندگی

 بھر ہم ایسے ہی گدھے رہے) خیر انکا خاندان اسکول کہ

 پاس گورنمنٹ کوارٹرز میں رہتا تھا۔اسکی والدہ کا

 انتقال ہو گیا۔ تدفین پر انکے والد نے اعلان کیاکہ وہ

 قادیانی ہیں۔ لہذا جو لوگ شرکت نہ کرنا چاہیں انکا

 شکریہ۔ محلے والے تسلیمات ایسے بجا لا ۓ کہ انکو

 محلے سے نکال دیا۔ہم سب کی شکل دیکھتے رہ گۓ۔

 ہاں “لا اکراہ فی الدین” کا مطلب سمجھ میں آ گیا۔ ‎سر

 اٹھا کر اوپر دیکھا تو نظر کمزور تھی اور تارے کچھ کم کم۔

وقت گزرتا گیا نۓ نۓ انکشافات ہوتے گۓ۔ ایک دن جمعہ

 کے خطبے میں مولوی صاحب نے بتایا کہ شیعہ کافر ہوتے

 ہیں۔ ہمارے صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں۔ لہذا ہم نے دس

 محرم کا جلوس کا جواب دینے کے لیۓ (جو کہ ایک بدعت

 ہے) بارہ ربیع الاول کے جلوس کی بنیار ڈالی ہے۔

پھر 77 آیا اور ہم پر یہ “من حیث اللقوم” القا ہواکہ ہم دراصل

 مسلمان ہیں اور ہمیں چودہ سو سال سے اندھیرے میں رکھا

 گیا تھا۔  اس زمانے میں پانی نہ آنا اور بجلی کاجانا بھی یہود

 وہنود کی سازش ہوتی تھی۔ (کمبخت کیا قافیہ ملاتے تھے)۔

بیویاں پورا دوپٹہ اوڑھ کر اپنے میاں سے الگ پلنگ پہ سوتی

 تھیں۔ مزمل حسین صاحب محلے کے سوشل ورکر تھے۔

 سمجھاتے تھے کہ گلییوں کو صاف رکھنے کی ذمہ داری

 ہماری ہے۔ کتا بھی کہیں بیٹھتا ہے تو دم سے جگہ صاف کر

 کہ بیٹھتا ہے ہم تو اشرف المخلوقات ہیں۔ مگر ایک شدید

 شرعی نقص تھا ان میں جس نہ انکی تمام اچھائیوں پہ پردہ

 ڈال دیا تھا۔ وہ  شیعہ تھے محرم میں گھر پر مجلس کروایا کرتے تھے۔

 باقاعدہ نواسہءرسول کا ماتم ہوتا تھا۔ہمارے تایا کا ارشاد

 ہوا کہ سالہ رافضی بھنگی ہے۔

بینائ کمزور ہوتی گئ اور آسمان پہ تاریکی بڑھتی جا رہی

 تھی کہ یکایک چند بیحد بڑے انکشافات ہوۓ، جنہوں نے

 ماضی کے ان تمام کارناموں کو طاق پہ رکھ دیا۔ ایک تو یہ

 کہ افغانستان میں جہاد اکبر ہو رہا ہے اور مجاہدین نے

 صحابہ ء بدرواحد کی یاد تازہ کر دی ہے۔ دوسرے نے ہماری

آس پاس کی زندگی پہ زیادہ اثر ڈالا۔ ہمیں پتہ چلا کہ ہم مہاجر ہیں۔

 واۓ ناکامی کہ اہل زبان یہاں جاہل سندھیوں ڈگے پنجابیوں،

 قاتل پٹھانوں اور اجڈ بلوچیوں ( یا بقول شخصے عجمیوں)

 میں پھنس گۓ۔ہمارہ مقام تو ستاروں سے بھی بلند ہے۔

 (ان  ستاروں سے جنکی تعداد روز بروز کم ہوتی جا رہی

تھی) مگر صاحب پورے ملک میں سب سے پڑھے

 لکھے عالم و فاضل ہم ہیں، اسکے باوجود ہمیں ہمارا صحیح

 مقام نہیں ملا بس بھیا کا خطاب دے کر کونے میں

 بٹھا دیا ورنہ بقول داغ

اپنے محبوب کی خاطر منظور تھی ورنہ

قرآن   بھی   اترتا     بزبان    دہلی

چناچہ ہم نے ٹی وی  اور وی سی آر بیچا اور کلاشنکوف

 خرید لی اور دے مار ساڑھے چار کر دیا۔ مزاق برطرف

 ہم دوسروں کا ذکر کر رہے ہیں کہ اتنے موٹے شیشوں کی

 عینک کے ساتھ ہم غلیل بھی نہیں چلا سکتے تھے اور

 صرف چاقو دیکھ کر ہمارہ پاجامہ گیلا ہو جاتا ہے ۔

مگر ایک بڑی عجیب بات ہوئ۔ ہر بوری میں بند لاش

 پہ ایک ستارہ غائب ہو جاتا۔ کمبختوں کا آسیب انکی

 روشنی جیسے ڈھانک دیتا۔

 زیرجامہ کی طرح بدلتی جمہوری حکومتوں کے زمانے

میں ہم نے سوچا چلو میاں زمیں دیکھ فلک دیکھ کے

 مصداق یہاں سے نکل چلتے ہیں یہاں تو چودھویں

 کا چاند بھی پھیکا پڑ گیا ہے بلکہ رمضان شو؛ل اور

 ذی الحج کا پہلی کا چاند تو سرخ رنگ کا ہونے لگا ہے۔

 تذکرہ ء غوثیہ میں مذکور ہے کہ ایک پیر صاحب بمعہ

 مریدوں کے کہیں جا رہے تھے۔شام ہوئی تو پڑاؤ ڈالا۔

 ہر مرید کے ذمے خدمت کی۔ کسی کے ذمے پا نی، کسی

 کے ذمے آگ وغیرہ۔ جس مرید کے ذمے آگ کی تھی، وہ

 خالی واپس آ گیا۔ کہنے لگا میاں، اس بیاباں میں آدم نہ

 آدم زاد، آگ کہاں سے لاؤں۔ پیر صاحب ناراض ہو کر

 بولے، تمہیں اپنی طاقت کا انداذہ نہیں، میرے مرید ہو،

 زمین نہ سہی، جاؤ جہنم سے لے کر آؤ۔ مرید جہنم پہنچ

 گئے، دیکھا تو وہاں لق ودق میدان، بیچ میں ایک پتھر پہ

 ایک آدمی بیٹھا ہے۔ پوچھا تم کون، اس نے کہا، جھنم کا

 نگران۔ انہوں نے آگ مانگی تو وہ بولا میاں یہاں آگ

 کہاں۔ یہ حیران ہو کر بولے، جہنم میں آگ نہیں! وہ

بولا یہاں آگ نہیں ہوتی جو آتا ہے اپنی آگ ساتھ لے کر

 آتا ہے، چناچہ ہم نےاپنی آگ اور اپنا  تان توبڑا اٹھایا،

 جورو جاتا کو بغل میں دبایا اور ٹورونٹو میں اتر گۓ۔

 یہاں پہنچھ کر تو چکر سے آ گۓ۔ ہر شاخ پہ ایک نیا پرندہ۔

 ایک سو چھیانوے ملکوں کے لوگ اور خدا کا غضب

 اسقدر یہودوہنود کہ دیکھ دیکھ کر دماغ سن ہو جاۓ۔

 کمبخت آبکو اپنے حال میں ایسا پھنساتے ہیں توبہ۔

 اپنے ملک والے تو ذرا اتنظار کرتے ہیں، بندہ ذرا

سیٹل ہو جاۓ نوکری گھر اور گاڑی ذرا بہتر ہو جاۓ

 تو منہ لگائیں گے۔ مگر یہ لوگ تو پہلے دن سے ہی

 آپ  پر کام شروع کر دیتے ہیں۔ ہر بات پہ حوصلہ ہر

 وقت مدد کے لیۓ حاضر۔ شروع میں ہم جب پیغمبری

 وقت سے گزر رہے تھے اور ہمارے بھائی ہمیں بتا

 رہے تھے کہ یہ سب ہماری کھال کی وجہ سے ہے۔

 ایک ہندوستانی ہمارے پاس آۓ اور بولے کہ میاں شرو‏ع

 میں ہر  کوئی اس چکی سے گزرتا ہے۔ یہاں مواقع

 بیشمار، ہمت نہ ہارو لگے رہو۔ پھر ہنس کہ بولے کہ

 یار ہمارے تمہارے ملک میں اگر کوئی حبشی آجاۓ تو

 کیا سلوک کرو گے۔ بات کڑوی تھی جو اس بات کا ثبوت

 تھی کہ سچی تھی۔ ایک بات عجیب تھی کہ آسمان پہ

 ستارے کہیں زیادہ تھے۔

موسم بے تحاشہ سرد مگرجیسے ہی سردی چھٹی

 اسکی وجہہ سمجہ میں آ گئ۔ اگر یوسفی صاحب ہوتے

 تو کہتے “بقول مرزا خدا نے اس قوم پر سردی کی مار اس

 لیۓ ماری ہے کہ یہ قوم ذرا سی گرمی میں کپڑے اتار دیتی ہے”

ہم ایک دوست کے ہمراہ ڈرائیونگ لائسنس کے دفتر

 گۓ۔ باہر نکل کر وہ بولے دیکھیئے کیا انتظام تھا آپ

لائن میں لگتے گئے اور کام ہوتا چلا گیا، ہم بو لے میاں

 اگر یہ پاکستان ہوتا تو ہم باہر بن کباب والے کو پیسے دیتے

 اور پکا لائسنس لے کر گھر چلے جاتے۔ وہ اپنا مونہہ لے کر

 رہ گۓ۔

نوکری بھی ملی تو بنک میں۔ آنکھیں چوپٹ کھل گئیں۔

 کمبخت سود کو سود کہتے ہیں۔ ختنہ کر کہ مشرف بااسلام

 کر کہ مارک اپ نہیں کہتے۔ یہاں تک کہ گدھوں کو

 سود پہ سود لینا بھی نہیں آتا۔ اب آپ دیکھیے ہمارے یہاں

 مارک اپ کے ہونے سے کتنی بڑی معاشی تبدیلی آ گئی ہے۔

 دودھ کی نہریں ابل پڑیں۔ ہمارے اٹھارہ بیس فیصد سود کے

 مقابلے میں یہاں صرف چار پانچ فیصد۔ ہونہہ۔

ہنسی یوں آئی کہ جب صوبہ کیوبیک نے آزادی کی بات

 کی تو وہاں ریفرنڈم کروا دیا۔ یہ نہ کیا وہاں کی جامعہ میں

 ٹینک دوڑا دیتے، غداروں کے سروں کے مینار کھڑے کر

دیتے، انکی عورتوں کے ۔۔۔۔۔۔خیر جانے دیجئیے۔

اور تو اور کیوبیک والے بھی ایسے بزدل کہ ریفرنڈم ہار کہ

بیٹھ گۓ۔ نہ دھاندلی کے الزام نہ خودکش حملے۔ آزادی

 کہیں ایسے ملتی ہے ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

جنوں سے اور عشق سے ملتی ہے آزادی

چند دن پہلے کی بات ہے۔ ہمارے گھر کے پاس ریلوے

 اسٹیشن پر وزیراعظم آۓ۔ ہمیں ٹی وی سے پتہ چلا۔

 ہم سکتے میں آگۓ۔ نہ کوئ ہوٹر والی گاڑی، نہ کوئ

بسوں کاجلوس، نہ ہوائ فائرنگ۔ اس سے زیادہ شان سے

 تو ہمارہ کونسلر آتا ہے۔

اپنے مذہب سے محبت کا سنیے۔ ہم اپنی کرسی پہ نماز پڑھ

رہے تھے باس آکر بولا یہاں کیوں پڑھ رہے ہو، ہم نے کہا کہ

 اے بندہ ء خدا اور کہاں پڑھیں۔ وہ گیا اور تھوڑی دیر میں

 نوٹس آ گیا کہ نماز کے اوقات میں بورڈ روم نماز کے لیۓ

 مختص ہو گا۔  کچھ دن پہلے کی بات ہے ہماری بچی

 پوچھنے لگی کہ مسلمان جمعہ کی نماز میں کیسے بم دھماکہ

 کر سکتے ہیں۔ اب ہم اسکو نماز جمعہ میں شہادت کے

 فضائل پر کیا درس دیتے۔ واقعی بچے یہاں بر مذہب سے

 بہت دور ہو جاتے ہیں۔

بات بینک سے شروع ھوئی اور کہاں پہونچ گئ۔ سود کھانے

 والوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہمیں برانچ بھی ملی تو خالص

 اہل یہود کے علاقے میں۔ باریش اور لمبے ہیٹ والے ہمیں دیکھ

 کر اور ہم انکو دیکھ کر چکرا گۓ۔ مگر ہم آستینیں چڑھا کر کام

میں جٹ گۓ اور جب انہوں نے دیکھا کہ بندہ کام کرنے والا ہے

تواتنا دھندا دیا کہ ہم کام سمیٹ سمیٹ کہ تھک گۓ۔ آّپ نے

 دیکھا کہ یہ لوگ پیسہ کمانے کے لیۓ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

 مگر ایک بات ہوئی۔ ستارے چھوڑیۓ آسمان پہ کہکشائیں

 جگمگانیں لگیں ہیں۔

کل امی کا فون آیا تھا کہنے لگیں کب تک اس ناپاک

 ملک میں رہو گے۔ میں سکتے میں آ گیا۔ آنکھوں

 کی لیزر سرجری کروا لی ہے۔ آسمان ستاروں بلکہ

کہکشائوں سے مزین و مرصع۔

 اب کیا واپس لوٹ جائوں؟

 

 

Advertisements